Skip to main content

Equity -- ایکویٹی--کیوں اور کہاں؟

ایکویٹی، کیوں اور کہاں؟

EQUITY

-----------------------------------------



ایکویٹی کیا ہے سے بھی اہم سوال ہے کہ یہ آخر ہے کیوں، اور پاکستان کے قانونی نظام میں کہاں پائی جاتی ہے ؟

جب 1066 میں فرانس کے وائکنگ نارمنوں نے برطانیہ فتح کر لیا تو علاقائی سالمیت اور اپنی حکومت کی مضبوطی  کی خاطر اجتماعی قانون (Common Law) کا نظریہ اپنایا ۔ اس نظریہ کے مطابق اجتمائی قانون پورے برطانیہ پر یکساں لاگو تھا اور علاقائی قانون  صرف وہاں کارآمد تھا جہاں اجتماعی قانون (کامن لا) موجود نہ ہو ۔ چونکہ بادشاہ تمام برطانیہ پر اپنی سیاسی اور قانونی گرفت چاہتا تھا، اس لیے اجتماعی قانون کے تحت مقدمات کے فیصلے کرنے کے لیے بادشاہ نے مخصوص اجتماعی عدالتیں تشکیل دیں جو بادشاہ کے براہ راست زیر اثر تھیں ۔

ان عدالتوں کا مقصد یہ تھا کہ علاقائی قوانین کو آہستہ آہستہ ختم کر کے اجتماعی قوانین سارے برطانیہ پر لاگو کر دیئے جائیں۔ لہذا یہ عدالتیں مختلف مقامات پر مقدمات سنتیں اور فیصلوں میں اعلان کرتیں کہ فلاں اصول اجتماعی قانون کا حصہ ہے، لہذا اس مقدمے کا فیصلہ اجتماعی قانون کے تحت اسی اصول کے مطابق کیا جاتا ہے۔

اس عمل سے دو کام ہوئے ۔

پہلا یہ کہ اجتماعی قوانین کے اصول جمع ہوتے ہوتے ایک مربوط نظام بننے لگا۔ اور دوسرا یہ نظریہ معرض وجود میں آنے لگا کہ قاضی قانون تلاش کر کے اس کا اعلان کرتا ہے (لہذا قاضی قانون بناتا نہیں ہے)۔

اجتماعی قانون کا ایک مضبوط اور مربوط نظام بن تو گیا ۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کے ضابطے کی تکنیکیاں اتنی گنجل دار ہونے لگیں کہ بہت سے مقدمات ان گنجلوں میں پھنس کر اپنی موت آپ ہی مر جاتے۔

انہی گنجلوں میں سے ایک یہ تھی کہ اجتماعی قانون کے تحت آپ کے ہر نقصان کا مداوا پیسہ تھا۔ اگر کوئی آپ سے اراضی فروخت کا معاہدہ کرنے کے بعد مکر گیا تو آپ اپنا نقصان ثابت کر کے معاوضے کی رقم حاصل کر سکتے تھے ، مگر وہ زمین حاصل نہیں کر سکتے تھے ۔ اگر آپ کے ہمسایے نے آپ کی کھڑکی کے آگے دیوار کھڑی کرنی شروع کر دی تو آپ معاوضہ حاصل کر سکتے تھے، اپنی کھڑکی کے آگے ابھرتی دیوار نہیں رکوا سکتے تھے ۔

ایسے مقدمات میں کئی لوگ تنگ آکر بادشاہ کے پاس فریاد کرتے ، جو قانون میں حرف آخر تھا۔ بادشاہ کبھی کسی کی بات سنتا، کبھی نہ سنتا، کبھی ایک طرح کا فیصلہ کرتا کبھی دوسری طرح کا ۔

آہستہ آہستہ اس قسم کے مقدمات میں زیادہ سے زیادہ لوگ شاہ برطانیہ کے پاس فریادیں لانے لگے۔  جب بادشاہ نے دیکھا کہ فریادیوں کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے تو اس نے اس قسم کی فریادیں اپنے ایک وزیر لارڈ چانسلر کے سپرد کرنی شروع کر دیں۔ یوں لارڈ چانسلر کی سربراہی میں عدالت ایکوئیٹی (کورٹ آف چانسری) وجود میں آئی ۔

چونکہ ایکویٹی عدالت میں سائلین اجتماعی عدالتوں کی تکنیکی گنجلوں سے پریشان ہو کر آتے تھے ، چنانچہ ایکویٹی عدالت مقدمات کے فیصلے اجتماعی عدالتوں کی قانونی گنجلوں سے ہٹ کر انصاف کے بنیادی اصولوں کی بنیاد پر کرتی ۔ پہلے پہل تو ایکویٹی عدالت ہر مقدمے کا فیصلہ اس کے حقائق اور انصاف کے تقاضوں کے پیش نظر کرتی ، مگر جب لوگوں نے دیکھا کہ اس عدالت میں انصاف زیادہ ہوتا نظر آتا ہے تو مقدمات کی تعداد بڑھتی گئی ۔ مقدمات کے رش کی وجہ سے ہر مقدمے کا فیصلہ مختلف اصولوں کے تحت کرنا مشکل ہونے لگا تو ایکویٹی عدالت نے اپنے اصول وضع کرنے شروع کر دیئے، جو کہ ایک علیحدہ مربوط نظام کی شکل اختیار کر گئے۔

چنانچہ اب اگر کوئی آپ سے اراضی بیچنے کا معاہدہ کر کے مکر جائے اور آپ معاوضہ چاہتے ہوں تو اجتماعی عدالت میں مقدمہ دائر کر سکتے تھے لیکن اگر آپ وہ اراضی ہی خریدنا چاہتے ہوں تو ایکویٹی عدالت سے رجوع کر سکتے تھے ۔ یہاں آپ کو معاوضہ نہیں بلکہ تکمیل مختص کی ڈگری ملتی اور مخالف فریق کو عدالت کے حکم سے اپنے معاہدے کا پاس کرتے ہوئے زمین آپ کو فروخت کرنی پڑتی ۔ اسی طرح اگر ہمسایہ آپ کی کھڑکی کے آگے دیوار تعمیر کر رہا ہوتا تو ایکویٹی عدالت کی طرف سے ہمسائے کے خلاف حکم امتناعی دوامی جاری کیا جاتا تھا جس سے ہمسائے کو دیوار تعمیر کرنے سے روک دیا جاتا تھا ۔

جب برطانیہ نے 1857 میں ہندوستان پر حکومت حاصل کرلی تو رفتہ رفتہ اس نے اپنے قوانین یہاں لاگو کرنے شروع کئے۔ مگر ان دنوں برطانیہ میں بھی یہ مطالبہ زور پکڑ رہا تھا کہ اجتماعی قانون اور ایکویٹی کی عدالتیں اکٹھی کی جائیں۔ لہذا انگریز نے ایکویٹی کے اصولوں کو مقننہ کے بنائے قوانین کی شکل میں ہندوستان میں لاگو کرنا شروع کیا جس سے ایک ہی عدالت اجتماعی قانون کے اصولوں اور ایکویٹی کے اصولوں کے تحت تمام مقدمات کے فیصلے کرنے لگی ۔ ہندوستان میں حکومت حاصل کرنے کے محض بیس سال بعد لاگو کیا گیا سپیسیفک ریلیف ایکٹ 1877 بھی ایسا ہی ایک قانون ہے جو برطانیہ کی ایکویٹی عدالت کے صدیوں کے عرصے پر محیط وضع کردہ کئی اصولوں کو خوبصورتی سے سموئے ہے۔

اسی طرح ایکویٹی کے اور کئی اصول ہندوستان اور اب پاکستان کے مختلف قوانین کا حصہ ہیں، جن میں ٹرسٹ ایکٹ بھی شامل ہے

Comments

Popular posts from this blog

Lawyer & Ai

Is there anything left in law for lawyers other than AI? Finding the relevant law used to be work, which is now handled by AI. Another lawyer-task used to be matching the facts of a case with the relevant law; AI does this also. Yet another donkey-work used to be sifting the relevant facts from a mound of case files. That is now also done by AI.